بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1715 — باب: ماہ شوال کے چھ روزوں کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صیام کے احکام و مسائل باب: ماہ شوال کے چھ روزوں کا بیان۔ حدیث 1715
حدیث نمبر: 1715 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، بَقِيَّةُ ، صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذَّمَارِيُّ ، أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذَّمَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، كَانَ تَمَامَ السَّنَةِ، مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ، فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» یعنی جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2107، ومصباح الزجاجة: 617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/280)، سنن الدارمی/الصوم 44 (1796) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: تو رمضان کے تیس روزے اور ۶ عید کے کل ۳۶ ہوئے، دس سے ضرب دینے میں ۳۶۰ روزے ہوتے ہیں، اور سال کے اتنے ہی دن ہیں، پس گویا اس نے سال بھر روزے رکھے، سبحان اللہ حق تعالی کی اپنے ناتواں بندوں پر کیا عنایت ہے، اب اختلاف ہے کہ یہ روزے عید کے بعد ہی رکھنا شروع کرے اور شوال کی سات تاریخ تک پورے کرلے، یا شوال کے مہینہ میں جب چاہے رکھ لے؟ مسلسل یا الگ الگ دن میں، ہر طرح جائز ہے، ہر حال میں سال بھر کے روزوں کا ثواب حاصل ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1714) باب پر واپس اگلی حدیث (1716) →