أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزوں کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصوم 12 (1106)، سنن ابی داود/الصوم 33 (2383)، سنن الترمذی/الصوم 31 (727)، الصوم 21 (1763)، (تحفة الأشراف: 17423)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 24 (1928)، موطا امام مالک/الصیام 6 (18)، مسند احمد (6/30)، سنن الدارمی/المقدمة 53 (698) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے لیکن یہ ایسے شخص کے لیے ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اور جسے اپنے نفس پر قابو نہ ہو اس کے لیے یہ رعایت نہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح