عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوتے تھے میں ان کی قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آ جاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصوم 40 (1950)، صحیح مسلم/الصوم 26 (1146)، سنن ابی داود/الصوم 40 (2399)، سنن النسائی/الصیام 36 (2321)، (تحفة الأشراف: 17777)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 20 (54)، مسند احمد (6/124، 179) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جب شعبان کا مہینہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس مہینہ میں بہت روزے رکھتے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی قضا کرتیں، اور قضا میں دیر کرنے کی وجہ یہ ہوتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت بہت تھی، پہلے روزے رکھنے سے اندیشہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف ہو گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح