عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے، اور نہیں بھی رکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصوم 38 (1948)، صحیح مسلم/الصوم 15 (1113)، سنن النسائی/الصوم 31 (2293)، (تحفة الأشراف: 6425)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 42 (2404)، موطا امام مالک/الصیام 7 (21)، مسند احمد (1/244، 350)، سنن الدارمی/الصوم 15 (1749) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اختیار ہے چاہے رکھے یا نہ رکھے، اور آگے جو باب آ رہا ہے اس کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح