بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1607 — باب: حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل باب: حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب۔ حدیث 1607
حدیث نمبر: 1607 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَسِقْطٌ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ فَارِسٍ أُخَلِّفُهُ خَلْفِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14831، ومصباح الزجاجة: 582) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یزید بن رومان کا سماع ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، اور یزید بن عبد الملک ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4307)
وضاحت
۱؎: عربی میں «سقط» اس ادھورے اور ناقص بچے کو کہتے ہیں جو مدت حمل تمام ہونے سے پہلے پیدا ہو اور اس کے اعضاء پورے نہ بنے ہوں، اکثر ایسا بچہ پیدا ہوکر اسی وقت یا دو تین دن کے بعد مر جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن عبدالملك:ضعيف (تقريب: 7751)
وقال الھيثمي: وھو متروك ضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 91/4)
و قال: و قد ضعفه أكثر الناس (أيضًا1/ 245)
و يزيد بن رومان لم يدرك أبا هريرة رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (1606) باب پر واپس اگلی حدیث (1608) →