أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمُوتُ لِرَجُلٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 6 (1251)، الأیمان والنذور9 (6656)، صحیح مسلم/البروالصلة 47 (2632)، (تحفة الأشراف: 13133)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 64 (1060)، سنن النسائی/الجنائز 25 (1876)، موطا امام مالک/الجنائز 13 (38)، مسند احمد (2/240، 276، 473، 479) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے جو اللہ تعالی نے اس آیت میں کیا ہے، «وَإِن مِّنكُمْ إِلا وَارِدُهَا» (سورة مريم: 71) یعنی کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جس کا گزر جہنم سے نہ ہو، اور یہ وعدہ تب ہے کہ وہ ان بچوں کی موت پر صبر کرے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح