هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، ابْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرَاثِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5153، ومصباح الزجاجة: 1575) (ضعیف)» (اس کی سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت پر مرثیہ کہتے یعنی منظوم کلام جس میں اس کے فضائل بیان کرتے اور رنج و غم کی باتیں کرتے، اسلام میں اس کی ممانعت ہوئی، لیکن جاہل اس سے باز نہیں آئے، اب تک مرثیے کہتے، مرثیے سناتے اور سنتے ہیں «إنا لله وإنا إليه راجعون» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن مسلم الهجري: لين الحديث
وھو ضعيف الحديث علي الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436
الحكم: ضعيف