مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ ، دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" مَا يُجْلِسُكُنَّ؟"، قُلْنَ: نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ، قَالَ:" هَلْ تَغْسِلْنَ؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ:" هَلْ تَحْمِلْنَ؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ:" هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي؟"، قُلْنَ: لَا، قَالَ:" فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: ”تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو“؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: ”کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اسے اٹھاؤ گی“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10269، ومصباح الزجاجة: 566) (ضعیف)» (اس کی سند میں دینار ابو عمر اور اسماعیل بن سلمان ضعیف ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: 1لضعیفہ: 2742)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن سلمان بن أبي المغيرة الكوفي: ضعيف (تقريب: 450)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
الحكم: ضعيف