مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ ، عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجنائز 65 (3208)، سنن الترمذی/الجنائز 53 (1045)، سنن النسائی/الجنائز85 (2011)، (تحفة الأشراف: 5542) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 585)»
وضاحت
۱؎: بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں اور ضرح اور شق صندوقی قبر کو جو بہت مشہور ہے، اس حدیث سے لحد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس وجہ سے کہ اس میں مردے پر مٹی گرانی نہیں ہوتی، جو ادب واحترام کے خلاف ہے، نیز اس سے صندوقی قبر کی ممانعت مقصود نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3208) ترمذي (1045) نسائي (2011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434
الحكم: صحيح