أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، زَاذَانَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1759) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی خاموش سر جھکا کر بیٹھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہمیشہ اسی طرح با ادب بیٹھتے تھے۔ اور قبرستان میں بھی باکل خاموش اور چپ چاپ بیٹھ جاتے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح