مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اتَّبَعَ جِنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ، فَقَالَ: هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ؟ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: خَالِفُوهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا، اور فرمایا: ”ان کی مخالفت کرو ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجنائز 47 (3176)، سنن الترمذی/الجنائز 35 (1020)، (تحفة الأشراف: 5076) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 437)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانے کا حکم دیا تھا، پھر جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہود بھی ایسا کرتے ہیں تو آپ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا جس سے سابق حکم منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3176) ترمذي (1020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
الحكم: حسن