مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، أَبُو شَيْبَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُدْرِجُوهُ فِي أَكْفَانِهِ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ وَبَكَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1708، ومصباح الزجاجة: 525) (ضعیف)» (اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ یوسف بن ابراہیم منکر الحدیث ہیں، بلکہ یہ صاحب عجائب کے نام سے مشہور ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبو شيبة يوسف بن إبراهيم: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
الحكم: ضعيف