أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَلَا عِمَامَةٌ"، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُمْ كَانُوا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ كُفِّنَ فِي حِبَرَةٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" قَدْ جَاءُوا بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَلَمْ يُكَفِّنُوهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کرتہ اور عمامہ نہ تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ دھاری دار چادر لائے تھے مگر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس میں نہیں کفنایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 13 (941)، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3152)، سنن الترمذی/الجنائز20 (996)، سنن النسائی/الجنائز 39 (1900)، (تحفة الأشراف: 16786)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 18 (1264)، 23 (1271)، 24 (1272)، 94 (1387)، موطا امام مالک/الجنائز 2 (5) مسند احمد (6/40، 93، 118، 132، 165) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفید کپڑا کفن کے لیے بہتر ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ تین کپڑوں سے زیادہ مکروہ ہے بالخصوص عمامہ جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے، یہ بدعت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح