مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی مردے کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الجنائز 17 (993)، (تحفة الأشراف: 12726)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 39 (3161)، مسند احمد (2/272) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ حکم مستحب ہے، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «ليس عليكم في غسل ميتكم إذا اغسلتموه أن ميتكم يموت طاهرًا، وليس بنجس فحسبكم أن يغسلوا أيديكم» ”جب تم لوگ اپنے میت کو غسل دو، تو تمہارے اوپر کچھ نہیں ہے، سوائے اس کہ تم اپنے ہاتھوں کو دھو لو، کیونکہ تمہارے میت پاک و صاف ہو کر وفات پائے ہیں وہ نجس نہیں ہیں“ نیز امام خطابی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی بھی عالم نے میت کو غسل دینے سے یا اسے اٹھانے سے غسل کو واجب کہا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح