إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بند کر دیا، پھر فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الجنائز 4 (920)، سنن ابی داود/الجنائز 21 (3118)، (تحفة الأشراف: 18205)، مسند احمد (6/297) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مردے کی آنکھ اس واسطے کھلی رہ جاتی ہے کہ روح کو جاتے وقت وہ دیکھتا ہے، پھر آنکھ بند کرنے کی طاقت نہیں رہتی اس لئے آنکھ کھلی رہ جاتی ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح