جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ، فَمُرْهُ أَنْ يَدْعُوَ لَكَ، فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10649، ومصباح الزجاجة: 510) (ضعیف جدًا)» (اس سند میں انقطاع ہے، کیونکہ میمون بن مہران نے عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ميمون بن مهران لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه (تحفة الأشراف: 110/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
الحكم: ضعيف جدا