يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ :" أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى، فَيَعْمِدُ إِلَى الْأُسْطُوَانَةِ دُونَ الْمُصْحَفِ، فَيُصَلِّ قَرِيبًا مِنْهَا، فَأَقُولُ لَهُ: أَلَا تُصَلِّي هَا هُنَا وَأُشِيرُ إِلَى بَعْضِ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ، فَيَقُولُ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى هَذَا الْمُقَامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز الضحیٰ (چاشت کی نفل نماز) کے لیے آتے اور صف سے پہلے ستون کے پاس جاتے اور اس کے نزدیک نماز پڑھتے، میں مسجد کے ایک گوشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہتا: آپ اس جگہ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو وہ کہتے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 95 (502)، صحیح مسلم/الصلاة 49 (509)، (تحفة الأشراف: 4541)، مسند احمد (4/48) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بظاہر یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف ہے جس میں مسجد کے اندر ایک جگہ متعین کرنے کی ممانعت ہے، تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہ ممانعت فرائض کے لئے ہے، سنن اور نوافل کے لئے نہیں، اور بعض نے کہا ہے کہ قصد کرنا اور خاص کرنا دونوں الگ الگ چیز ہے، کیوں کہ خاص کرنے میں ملکیت ثابت ہوتی ہے، اور مسجد کسی کی ملک نہیں ہے، اور قصد کرنے کا یہ مطلب ہو گا کہ اگر جگہ خالی ہو تو وہاں پڑھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو اس ستون کا قصد کرتے تو اس کی کوئی علت حدیث میں مذکور نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح