أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبُو الْأَبْرَدِ ، أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْرَدِ مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ كَعُمْرَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الصلاة 126 (324)، (تحفة الأشراف: 155) (صحیح)»
وضاحت
: ۱؎ مسجد قباء: ایک مشہور مسجد ہے، جو مسجد نبوی سے تھوڑے سے فاصلہ پر واقع ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، تو سب سے پہلے اس مسجد کی بنیاد رکھی، اور مسلسل چار دن تک اسی مسجد میں نماز پڑھتے رہے، اور مسجد نبوی کے بننے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد قباء تشریف لے جاتے، اور وہاں نماز پڑھتے، نیز قرآن کریم میں اس کے متعلق یوں مذکور ہے: «لمسجد أسس على التقوى من أول يوم أحق أن تقوم فيه» ”جو مسجد (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مدینہ آمد کے وقت) اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت کے لیے کھڑے ہوں“ (سورة التوبة: 108)، اور متعدد احادیث میں اس کی فضیلت آئی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح