بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1403 — باب: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان۔ حدیث 1403
حدیث نمبر: 1403 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّلِيلِ ، دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّلِيلِ ، أَخْبَرَنِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" افْتَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا، أَنَّهُ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلَا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12082، ومصباح الزجاجة: 494)، وقد آخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 9 (430) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں «ضبارہ» مجہول اور «دوید» متکلم فیہ ہیں، (تراجع الألبانی: رقم: 58)، نیز بوصیری نے اس حدیث کو زدا ئد ابن ماجہ میں داخل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ مزی نے تحفة الأشراف میں اس حدیث کو ابن الاعرابی کی روایت سے ابوداود کی طرف منسوب کیا ہے، جس کو میں نے لئولُوی کی روایت میں نہیں دیکھا ہے)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف/ د
سنن أبي داود (430)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (1402) باب پر واپس اگلی حدیث (1404) →