أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أُمِّ هَانِئٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَأَلْتُ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَالنَّاسُ مُتَوَافِرُونَ أَوْ مُتَوَافُونَ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي أَنَّهُ صَلَّاهَا يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ ، فَأَخْبَرَتْنِي:" أَنَّهُ صَلَّاهَا ثَمَانَ رَكَعَاتٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نماز الضحی (چاشت کی نماز) کے متعلق پوچھا اور اس وقت لوگ (صحابہ) بہت تھے، لیکن ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نماز پڑھی، ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا نے یہ مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آٹھ رکعت پڑھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (614)، (تحفة الأشراف: 18003) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بہت سی احادیث سے یہ ثابت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی، اور اس کے پڑھنے کی فضیلت بیان کی، اتنی بات ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر مواظبت نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پابندی سے چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ نوافل کی طرح اس کو گھر میں ادا کرتے رہے ہوں، جس سے اکثر لوگوں کو پتا نہ چلا ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح