زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 52 (432)، التہجد 37 (1187)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (777)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1043)، 346 (1448)، (تحفة الأشراف: 8142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 214 (451)، سنن النسائی/قیام اللیل 1 (1599)، مسند احمد (2/6، 16) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: گھر کو قبرستان بنانے کا مطلب یہ ہے کہ قبرستان کی طرح گھر میں بھی عدم عبادت والی ویرانی ماحول پیدا نہ کرو، بلکہ نفلی نماز گھر ہی میں پڑھا کرو تاکہ گھر میں بھی اللہ کی عبادت والا ایک پر رونق ماحول دیکھائی دے کہ جس سے بچوں کی تربیت میں بھی پاکیزگی کا اثر نمایاں ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح