أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ نِصْفُهُ أَوْ ثُلُثَاهُ، قَالَ:" لَا يَسْأَلَنَّ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ يَدْعُنِي أَسْتَجِبْ لَهُ، مَنْ يَسْأَلْنِي أُعْطِهِ، مَنْ يَسْتَغْفِرْنِي أَغْفِرْ لَهُ"، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ مہلت دیتا ہے (اپنے بندوں کو کہ وہ سوئیں اور آرام کریں) یہاں تک کہ جب رات کا آدھا یا اس کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو فرماتا ہے: میرے بندے! میرے سوا کسی سے ہرگز نہ مانگیں، جو کوئی مجھے پکارے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا، جو مجھ سے سوال کرے گا میں اسے دوں گا، جو مجھ سے مغفرت چاہے گا، میں اسے بخش دوں گا، طلوع فجر تک یہی حال رہتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3611، ومصباح الزجاجة: 480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/16)، سنن الدارمی/الصلاة 168 (1522) (صحیح)» (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن مصعب ضعیف ہیں، جن کی عام احادیث او زاعی سے مقلوب (الٹی پلٹی) ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/198)
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر عبادت کرنا چاہئے، اور اللہ تعالی سے دعائیں کرنا اور گناہوں سے مغفرت طلب کرنا چاہئے کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اور خود اللہ رب العزت بندوں سے فرماتا ہے: جو کوئی مجھے پکارے گا، میں اس کی پکار کو سنوں گا، جو کوئی مانگے گا اسے دوں گا، اور جو کوئی گناہوں سے معافی طلب کرے گا، میں اسے معاف کر دوں گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح