عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ بْنِ ثَابِتٍ الزُّبَيْرِيُّ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ بْنِ ثَابِتٍ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ:" فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَتِلْكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا، آپ کھڑے ہوئے، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 26 (765)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1366)، (تحفة الأشراف: 3753)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (13)، سنن الترمذی/الشمائل (269)، مسند احمد (5/192) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس روایت سے تہجد کی بارہ رکعت نکلتی ہیں، اور ایک رکعت وتر کی، اور احتمال ہے کہ تہجد کی آٹھ ہی رکعت ہوں، اور پانچ وتر کی ہوں، لیکن دو، دو رکعت الگ الگ پڑھنے سے راوی کو گمان ہوا ہو کہ یہ بھی تہجد ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح