أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ فِيهِنَّ سَجْدَةً بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 316 (1336، 1337)، سنن النسائی/الأذان 41 (686)، (تحفة الأشراف: 15615، 16618، ومصباح الزجاجة: 477)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، االتہجد 3 (1123)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن الترمذی/الصلاہ 209 (441)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (8)، مسند احمد (6/34، 35)، سنن الدارمی/الصلاہ 148 (1487) (صحیح)» (بوصیری نے اس حدیث کی تخریج میں سنن کبریٰ کا ذکر کیا ہے، جب کہ یہ سنن صغری میں ہے، اس لئے یہ زدائد میں سے نہیں ہے، کما سیأتی: 361 أیضاً)
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح