بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا، وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ”اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز (غالب)، اور حکیم (حکمت والا) ہے“ (سورة المائدة: 118)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12012، ومصباح الزجاجة: 475)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 79 (1011)، مسند احمد (5/149) (حسن)» (اس کی تخریج میں بوصیری نے سنن کبریٰ کا حوالہ دیا ہے، جب کہ یہ صغریٰ میں موجود ہے، اس لئے یہ زوائد میں سے نہیں ہے)
وضاحت
۱؎: یہ سورۃ المائدۃ کی اخیر آیت ہے، اور عیسی علیہ السلام کی زبان پر وارد ہوئی، وہ قیامت کے دن یہ کہیں گے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن