بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1320 — باب: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان۔ حدیث 1320
حدیث نمبر: 1320 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ:" يُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَافَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَهٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو دو رکعت پڑھے، جب طلوع فجر کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏حدیث طاوس وسالم: أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین20 (749)، سنن النسائی/قیام اللیل24 (1668)، (تحفة الأشراف: 6830، 7099)، وحدیث عبد اللہ بن دینار عن ابن عمر تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 7176) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 1 (990)، سنن ابی داود/الصلاة 314 (1326)، موطا امام مالک/صلاةاللیل 3 (13)، مسند احمد (2/49، 54، 66)، سنن الدارمی/الصلاة 154 (1499)، 155 (1500) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس ایک رکعت سے ساری نماز جو اس نے پڑھی ہے وتر ہو جائے گی، اور رات کی نماز کبھی وتر میں داخل ہوتی ہے جیسے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات رکعتیں وتر کی پڑھتے تھے، ان کے بیچ میں نہ سلام پھیرتے تھے، نہ بات کرتے تھے اور کبھی وتر الگ ہوتی ہے جیسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پانچ رکعتیں ان میں وتر کی ہوتیں، ان میں اخیر میں بیٹھتے، اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے، اور آٹھویں کے بعد بیٹھتے تھے پھر سلام پھیرتے تھے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر اخیر عمر میں سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور چھٹی یا ساتویں رکعت میں بیٹھتے تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ سات رکعتیں پڑھیں، صرف آخری رکعت میں بیٹھے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان و غیر رمضان میں آٹھ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے، اور تین وتر کی پڑھتے تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، ابن حزم کہتے ہیں کہ احادیث میں رات کی نماز وتر سمیت تیرہ آئی ہے، اور ہر طرح سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1319) باب پر واپس اگلی حدیث (1321) →