بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1315 — باب: عیدین میں غسل کرنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: عیدین میں غسل کرنے کا بیان۔ حدیث 1315
حدیث نمبر: 1315 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ ، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ الْأَضْحَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6508، ومصباح الزجاجة: 464) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (یہ سند بہت ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں جبارہ ہیں، جن کی حدیثوں میں غفلت کی وجہ سے اضطراب ہے، نیز حجاج بن تمیم کی مروی حدیثوں کی کوئی متابعت نہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 146، امام بزار کہتے ہیں کہ عید ین میں غسل کی کوئی صحیح حدیث مجھے یاد نہیں ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر2/61)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جبارة:ضعيف
والحجاج بن تميم: ضعيف (تقريب: 1120)
والسند ضعفه الحافظ في الدراية (ح36)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
الحكم: ضعيف جدا
← پچھلی حدیث (1314) باب پر واپس اگلی حدیث (1316) →