يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، أَبُو بَحْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَخَطَبَ قَائِمًا، ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً، ثُمَّ قَامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2661، ومصباح الزجاجة: 449) (منکر)» (سند میں اسماعیل بن مسلم اور ابوبحر ضعیف ہیں، نیز ابوالزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے یہ سنداً اور متناً ضعیف ہے، صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ خطبہ جمعہ میں محفوظ ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري ما ملخصه: ’’ إسماعيل بن مسلم (المكي) أجمعوا علي ضعفه،أبو بحر (البكراوي) ضعيف ‘‘ إسماعيل بن مسلم: ضعيف
وعبد الرحمٰن بن عثمان البكراوي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
الحكم: منكر