بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1260 — باب: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان۔ حدیث 1260
حدیث نمبر: 1260 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَرَكَعَ بِهِمْ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ حَتَّى إِذَا نَهَضَ، سَجَدَ أُولَئِكَ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ حَتَّى قَامُوا مُقَامَ أُولَئِكَ، وَتَخَلَّلَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مُقَامَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، فَرَكَعَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلُونَهُ، فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ أُولَئِكَ سَجْدَتَيْنِ، فَكُلُّهُمْ قَدْ رَكَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَت طَائِفَةٌ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو صلاۃ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے تو ان لوگوں نے اپنے طور سے دو سجدے کئے، پھر پہلی صف پیچھے آ گئی اور وہاں جا کر کھڑی ہو گئی، جہاں یہ لوگ تھے، اور درمیان ہی سے یہ لوگ آگے بڑھ گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور پچھلی صف ہٹ کر اگلی کی جگہ کھڑی ہو گئی، اب پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سب لوگوں کے ساتھ رکوع کیا، اور آپ نے اور آپ سے قریبی صف نے سجدہ کیا، جب یہ صف سجدے سے فارغ ہو گئی تو دوسری صف نے اپنے دو سجدے کئے، اس طرح سب نے ایک رکوع اور دو سجدے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کئے، اور ہر جماعت نے دو سجدے اپنے اپنے طور پر کئے، اور دشمن قبلہ کے سامنے تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2673، ومصباح الزجاجة: 440)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ المغازي 31 (4130)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (840)، سنن ابی داود/الصلاة (تعلیقا) 281 (1286)، سنن النسائی/صلاة الخوف (1936)، مسند احمد (3/298) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱ ؎: پس یہاں اس کی ضرورت نہ تھی کہ ایک گروہ جائے اور دوسرا آئے صرف یہ ضروری تھا کہ سب لوگ ایک ساتھ سجدہ نہ کریں ورنہ احتمال ہے کہ دشمن غفلت میں کچھ کر بیٹھے، لہذا سجدہ میں تفریق ہوئی، باقی ارکان سب نے ایک ساتھ ادا کئے، اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ جیسا موقع ہو اسی طرح سے صلاۃ خوف پڑھنا اولیٰ ہے، اور ہر ایک صورت جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1259) باب پر واپس اگلی حدیث (1261) →