أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ: عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو نمازوں سے منع فرمایا، ایک فجر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج نکلنے تک، دوسرے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج ڈوب جانے تک ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المواقیت 30 (584)، 31 (588)، اللباس 20 (5819)، صحیح مسلم/المسافرین 51 (825)، سنن النسائی/المواقیت 32 (565)، (تحفة الأشراف: 12265)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 10 (48)، مسند احمد (2/462، 496، 510، 529)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2169، 3560) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مکروہ اوقات میں سے اس حدیث میں دو وقت، مذکور ہیں اور دوسری حدیث میں دیگر تین اوقات مذکور ہیں، ایک سورج نکلنے کے وقت، دوسرے سورج ڈوبنے کے وقت، تیسرے ٹھیک دوپہر کے وقت، علماء کا اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے، دلائل متعارض ہیں، اور اہل حدیث نے اس کو ترجیح دی ہے کہ ان اوقات میں بلاضرورت اور بلاسبب اور ضرورت سے جیسے طواف کے بعد دو رکعت یا تحیۃ المسجد کی سنت اور واجب کی قضا جیسے وتر یا فجر یا ظہر کے دو رکعت کی قضا ان اوقات میں درست اور صحیح ہے، اسی طرح مکہ مستثنیٰ ہے، وہاں ہر وقت نماز صحیح ہے، اسی طرح جمعہ کی نماز مستثنیٰ ہے اور وہ ٹھیک دوپہر کے وقت بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح