أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مَعْمَرٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا: سانپ کو اور بچھو کو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 169 (921)، سنن الترمذی/الصلاة 170 (390)، سنن النسائی/السہو12 (1203)، (تحفة الأشراف: 13513)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/233، 255، 273، 275، 284، 490)، سنن الدارمی/الصلاة 178 (1545) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ یہ دونوں سخت موذی جانور ہیں اور اگر نماز کے تمام ہونے کا انتظار کیا جائے گا تو ان کے بھاگ جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے نماز کے اندر ہی ان کو مارنا درست ہوا، اگرچہ چلنے اور عمل کثیر کی حاجت پڑے پھر بھی نماز فاسد نہ ہو گی، اور پھر مارنے کے بعد نماز وہیں سے شروع کر دے جہاں تک پڑھی تھی، واضح رہے جن کاموں کے کرنے کی اجازت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دی ہے ان سے نماز فاسد نہیں ہوتی جیسے سانپ بچھو مارنا، اگر کوئی اور گھر میں نہ ہو تو زنجیر کھول دینا، اشارہ سے سلام کا جواب دینا، ضرورت کے وقت کھنکار دینا مثلاً باہر کوئی پکارے اور یہ گھر کے اندر نماز میں ہو تو کھنکار دے، قیام اور رکوع منبر پر کرنا، اور سجدہ کے لئے نیچے اترنا، پھر منبر پر چلے جانا، بچے کو کندھے پر اٹھا لینا، رکوع اور سجدہ کے وقت اس کو زمین پر بٹھا دینا پھر قیام کے وقت لے لینا، بھولے سے بات کرنا، اور امام بھول جائے تو اس کو بتانا یعنی لقمہ دینا، نفل نماز میں قرآن (مصحف) میں دیکھ کر پڑھنا، کوئی نمازی کے سامنے سے گزرتا ہو تو ہاتھ سے اس کو ہٹانا یا ہاتھ سے اس کو ضرب لگانا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح