عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قُطْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَقَالَ:" صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8837)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 735)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (950)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1660)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 6 (19)، مسند احمد (2/162)، سنن الدارمی/الصلاة 108 (1424) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے تندرست اور صحت مند آدمی ہی نہیں بلکہ مریض بھی مراد ہے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے آدھا ہے“۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح