مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، جَابِرٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 201 (1036)، سنن الترمذی/الصلاة 152 (364 تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 25 115) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253، 254)، سنن الدارمی/الصلاة 176 (1540) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو اس وقت تک بیٹھ سکتا ہے، اگرچہ قیام کے قریب ہو گیا ہو، اور بعض فقہاء نے کہا کہ قیام کے قریب ہو گیا ہو تو بھی نہ بیٹھے، اور حدیث میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح