عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا كُنْتُ أُلْفِي أَوْ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي"، قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي: بَعْدَ الْوِتْرِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی ۱؎۔ وکیع نے کہا: ان کی مراد وتر کے بعد۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17715)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 7 (1133)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (742)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1318)، مسند احمد (6/137، 161، 205، 270) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ جاتے، اور تھوڑی دیر آرام فرماتے پھر فجر کی سنتوں کے لئے اٹھتے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح