أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا عَلِيٌّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/المنا قب 21 (3719)، (تحفة الأشراف: 3290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/164، 165) (حسن)» (تراجع الا ٔلبانی، رقم: 378، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1980، وظلال الجنة: 1189)
وضاحت
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ الفاظ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے بطور عذر، اور علی رضی اللہ عنہ کی تکریم کے لئے اس وقت فرمائے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر حج تھے، اور سورۃ براءت میں مشرکین سے کئے گئے معاہدہ کے توڑنے کے اعلان کی ضرورت پڑی، چونکہ دستور عرب کے مطابق سردار یا سردار کا قریبی رشتہ دار ہی یہ اعلان کر سکتا تھا، لہذا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن