مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمٌ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ"، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبَتْنِي عَيْنِي، أَرَأَيْتَ إِنْ نِمْتُ؟، قَالَ:" اجْعَلْ أَرَأَيْتَ عِنْدَ ذَلِكَ النَّجْمِ"، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا السِّمَاكُ، ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قَبْلَ الصُّبْحِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر ایک رکعت ہے“، ابومجلز (لاحق بن حمید) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے، اگر میں سو جاؤں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک ۱؎ چمک رہا تھا، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8560) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «سماک» : ایک ستارہ کا نام ہے، «سما کان» : دو روشن ستارے، ایک کا نام «السماء الرامح» ہے، دوسرے کا «السماء الأعزل» ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح