عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 336 (1416)، سنن الترمذی/الصلاة 216 (453)، سنن النسائی/قیام اللیل 27 (1676)، (تحفة الأشراف: 10135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/100، 110، 143، 144، 148)، سنن الدارمی/الصلاة 209 (1621) (صحیح لغیرہ) (تراجع الألبانی: رقم: 482)»
وضاحت
۱؎: قرآن والوں سے مراد قراء و حفاظ کی جماعت ہے، نہ کہ عامۃ الناس، اس کی تائید اگلی روایت میں «ليس لك ولا لأصحابك» کے جملہ سے ہو رہی ہے، جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک اعرابی سے کہا تھا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ وتر واجب نہیں ہے، کیونکہ اگر واجب ہوتی تو حکم عام ہوتا۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1416) ترمذي (453) نسائي (1676)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
الحكم: صحيح