مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُرَى أَنَّهَا الْإِقَامَةُ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں مؤذن اذان دیتا تو لوگ اتنی کثرت سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے کہ محسوس ہوتا کہ نماز مغرب کے لیے اقامت کہہ دی گئی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1104)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 95 (503)، الأذان 14 (625)، صحیح مسلم/المسافرین 55 (836)، سنن ابی داود/الصلاة 300 (1282)، سنن النسائی/الأذان 39 (682)، سنن ابی داود/الصلاة 300 (1282)، مسند احمد (3/282) (صحیح)» (اس سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن کئی ثقات نے ان کی متابعت کی ہے کما فی التخریج)
وضاحت
۱؎: یہ دو رکعتیں ہلکی ہوتی تھیں جب تک اذان سے فراغت ہوتی اور موذن تکبیر شروع کرتا تو ان سے فراغت ہو جاتی، نیز اس حدیث سے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح