أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ، وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَحَطْنَا بِهِ نَقُولُ لَهُ: مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: قَالَ لِي:" يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ أَرْبَعًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا، اور نماز فجر کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہیں آیا، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو ہم اس کے گرد یہ پوچھنے کے لیے جمع ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قریب ہے کہ اب تم میں سے کوئی فجر کی نماز چار رکعت پڑھے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 38 (663)، صحیح مسلم/المسافرین 9 (711)، سنن النسائی/الإمامة 60 (868)، (تحفة الأشراف: 9155)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/345، 346)، دی/الصلاة 149 (1490) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: فجر کی چار رکعت پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اقامت کے بعد وہ دو رکعت سنت پڑھتا ہے، جبکہ وہ فرض نماز کا محل ہے، گویا کہ اس نے فرض کو چار رکعت پڑھ ڈالا۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح