مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال لِعَلِيٍّ:" أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المناقب 9 (3706)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 (2404)، (تحفة الأشراف: 3840)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 21 (3731)، مسند احمد (1/170، 177، 3/32) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے (غزوۂ تبوک کی تفصیلات دیکھئے)، بعض منافقوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بزدلی کا طعنہ دیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم کو بزدلی کے سبب مدینہ میں چھوڑ گئے، ان کو تکلیف ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکوہ کیا، تب آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی، یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی ہے، اور اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: «إلا أنه لا نبي بعدي» یعنی اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی جیسے ہارون علیہ السلام نبی تھے، اس حدیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بعد موسیٰ کے خلیفہ نہیں تھے بلکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح