مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلَهُ أَصْحَابُهُ بِوُجُوهِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثابت کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب منبر پر کھڑے ہوتے تو آپ کے صحابہ اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب کر لیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2070، ومصباح الزجاجة: 405) (صحیح)» (اس کی سند میں عدی کے والد ثابت مجہول الحال ہیں، ان سے عدی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، ثابت صحابی نہیں ہیں، اس لئے یہ حدیث مرسل ہے، مجہول تابعی ثابت نے اس حدیث کو رسول اکرم صلى الله عليه و آله وسلم سے روایت کیا ہے، واسطہ غیر معلوم ہے اس لئے انقطاع کی وجہ سے یہ مرسل ہے، اور ابان بن تغلب کا ذکر سند میں غلط ہے، وہ ابان بن عبداللہ البجلی ہے، نیز حدیث کے شواہد ہیں، اس لئے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال 4/385، و مصباح الزجاجة: 405 وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2080)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ثابت أبو عدي مجھول الحال (تقريب:836) ولم يذكر من حدثه به
وحديث البخاري (921) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
الحكم: صحيح