أَبُو كُرَيْبٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُحَلَّقَ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079)، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن النسائی/المساجد 22 (715)، (تحفة الأشراف: 8796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/179، 212) (حسن)» (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: کیونکہ جمعہ کے دن خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے، اس لئے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن