أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ:" سُئِلَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟، قَالَ: أَوَمَا تَقْرَأُ: وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ غَرِيبٌ: لَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحْدَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے یا کھڑے ہو کر؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم نے یہ آیت کریمہ نہیں پڑھی: «وتركوك قائما» ”جب ان لوگوں نے تجارت یا لہو و لعب دیکھا تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر چل دیئے“ (سورة الجمعة: 11) ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس کو صرف ابن ابی شیبہ ہی نے بیان کرتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9438، ومصباح الزجاجة: 394) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ کھڑے ہو کر دیتے تھے۔ ۲؎: پوری آیت یوں ہے: «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”جب کوئی تجارت یا تماشا اور کھیل کود دیکھتے ہیں تو ادھر چل دیتے ہیں، اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں“ (سورة الجمعة: 11) اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر دیتے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
الحكم: صحيح