أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَبُو الْأَشْعَثِ ، أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْتَسَلَ، وَبَكَّرَ، وَابْتَكَرَ، وَمَشَى، وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کرایا اور خود بھی غسل کیا ۱؎، اور نماز کے لیے سویرے نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا، اور امام کے قریب بیٹھا، خطبہ غور سے سنا، اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 129 (346، 347)، سنن الترمذی/الصلاة 239 (469)، سنن النسائی/الجمعة 10 (1382)، 12 (1385)، 19 (1399)، (تحفة الأشراف: 1735)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8، 9، 10)، سنن الدارمی/الصلاة 194 (1588) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی جمعہ کے غسل سے پہلے بیوی سے صحبت کرے کہ اسے بھی غسل کی ضرورت ہو جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح