بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1030 — باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔ حدیث 1030
حدیث نمبر: 1030 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ بِالْبَصْرَةِ عَلَى بِسَاطِهِ، ثُمَّ حَدَّثَ أَصْحَابَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ:" يُصَلِّي عَلَى بِسَاطِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں اپنے بچھونے پر نماز پڑھی، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بچھونے پر نماز پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6310، ومصباح الزجاجة: 368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232) (صحیح)» (اس کی سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 665)
وضاحت
۱؎: حدیث میں تصریح نہیں ہے کہ بچھونا کس چیز کا تھا غالباً روئی کا ہو گا تو کپڑے پر نماز پڑھنا جائز ہو گا، دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گرمی کی شدت سے زمین پر اپنا کپڑا بچھاتے پھر اس پر سجدہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
زمعة بن صالح ضعيف
وحديث البخاري (6203) ومسلم (2150) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1029) باب پر واپس اگلی حدیث (1031) →