أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" عَائِشَةُ"، قِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُوهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ“، عرض کیا گیا: مردوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے والد (ابوبکر)“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/المناقب 63 (3890)، (تحفة الأشراف: 774) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بڑے چہیتے اور محبوب تھے، اور جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہیتا اور محبوب ہو وہ اللہ تعالیٰ کا چہیتا اور محبوب ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح