بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قرآن میں گانے جیسی سُر بنانے کی کراہت
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل قرآن میں گانے جیسی سُر بنانے کی کراہت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3534 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ أَنَسٍ بِلَحْنٍ مِنْ هَذِهِ الْأَلْحَانِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ أَنَسٌ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد، وَقَالَ غَيْرُهُ: قَرَأَ غُورَكُ بْنُ أَبِي الْخِضْرِمِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش (سلیمان بن مہران رحمہ اللہ) نے کہا: ایک شخص نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے سامنے قراءت کی، وہ سُر بنا کر پڑھ رہے تھے جس کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ناپسند کیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: دوسرے راوی نے کہا: غورک بن ابی الخضرم نے قراءت کی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3534]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الأعمش وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3545] »
یہ روایت اعمش رحمہ اللہ پر موقوف ہے، اور سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 9998]
الحكم: إسناده صحيح إلى الأعمش وهو موقوف عليه
حدیث نمبر: 3535 سنن دارمی
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: "كَانُوا يَرَوْنَ هَذِهِ الْأَلْحَانَ فِي الْقُرْآنِ مُحْدَثَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: اسلاف کرام قرآن کی قراءت میں ان سُروں کو بدعت شمار کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3535]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3546] »
اس روایت کی سند جید ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3532 سے 3535)
لحن یا سُر بنا کر قرآن پڑھنے کو بہت سے علماء نے ناپسند کیا ہے، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے التبيان، ص: 99 پر لکھا ہے: قراءت میں لحن (سُر) بنا کر پڑھنے کو امام شافعی رحمہ اللہ نے مکروہ گردانا ہے، دوسرا قول عدم کراہت کا بھی ہے، اور بعض اصحاب شافعی نے کہا: جو زیادہ کھینچ تان کر تکلف سے پڑھے ایسی قراءت مکروہ ہے۔
آداب تجوید و قراءت سے قرآن پڑھنا جس میں گانے کی آواز نہ ہو مکروہ نہیں ہے۔
«والله اعلم»
اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور احسان ہے کہ جامع مسند الامام ابومحمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن الدارمی (رحمہ اللہ) کا یہ ترجمہ اختتام کو پہنچا۔
«وصلى اللّٰه وسلم على نبينا محمد و على آله وصحبه تسليمًا كثيرا»
«والحمد للّٰه أوّلًا و آخرًا.»
الحكم: إسناده جيد