بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو شخص دو سو آیات پڑھے اس کی فضیلت
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل جو شخص دو سو آیات پڑھے اس کی فضیلت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3487 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَرِيزٌ ، حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: "مَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حبیب بن عبید نے کہا: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جو دو سو آیت پڑھے وہ قانتین میں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3487]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3498] »
یہ اثر موقوف على سیدنا ابی امامہ رضی اللہ عنہ ہے اور سند صحیح ہے۔ اوپر سو آیات کی روایت گذر چکی ہے۔ طبرانی نے اس کو تفصیل کے ساتھ [المعجم الكبير 211/8، 7748] میں ذکر کیا ہے لیکن اس کی سند ضعيف جدا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3488 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، يُحَنَّسَ ، سَالِمٍ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمٍ أَخِي أُمِّ الدَّرْدَاءِ فِي اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات میں دو سو آیات پڑھے وہ قانتین (اطاعت گزاروں) میں لکھ دیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3488]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «محمد بن القاسم كذبوه وموسى بن عبيدة ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3499] »
یہ روایت سو آیات کے باب میں گذر چکی ہے، اس میں سو اور دو سو کا، اور غافلین و قانتین کا اضطراب بھی ہے اور ضعيف جدا بھی ہے۔ محمد بن القاسم کو کاذب کہا گیا ہے۔
الحكم: محمد بن القاسم كذبوه وموسى بن عبيدة ضعيف
حدیث نمبر: 3489 سنن دارمی
أَبُو غَسَّانَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ عَشْرَ آيَاتٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِمِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَرَأَ بِمِائَتَيْ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْفَائِزِينَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو شخص رات میں دس آیات پڑھے وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا، اور جو سو آیات پڑھے گا وہ قانتین میں لکھا جائے گا، اور جو دو سو آیات پڑھے وہ فائزین میں لکھا جائے گا۔ (یعنی کامیاب و کامران لوگوں میں اس کا شمار ہو گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3489]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3500] »
اس روایت میں مغیرہ بن عبداللہ الجدلی ہیں جن کا ترجمہ کہیں نہیں ملا، اور ابوغسان: مالک بن اسماعیل ہیں۔ نیز یہ روایت (3481) پرگذر چکی ہے۔
الحكم: لم يحكم عليه المحقق