بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
معوذتین کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل معوذتین کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3471 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبُو عِمْرَانَ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالا: سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُود، وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا عُقْبَةُ، إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ مِنْ الْقُرْآنِ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ وَلَا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِن قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ"، قَالَ يَزِيدُ: فَلَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا، كَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَؤُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے (سواری پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدم مبارک کو پکڑا اور عرض کیا: اے اللہ کے پیغمبر! مجھے سورہ ہود اور سورہ یوسف پڑھا دیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عقبہ! تم ہرگز نہ پڑھو گے قرآن کی کوئی سوره جو «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» سے زیادہ الله تعالیٰ کے نزدیک محبوب اور بلیغ ہو (یعنی سورہ الفلق سب سے زیادہ الله کو محبوب اور بلیغ ہے)۔ یزید نے کہا: ابوعمران ہمیشہ اس کو مغرب کی نماز میں پڑھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3471]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3482] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 814] ، [النسائي 552] ، [أحمد 155/4، 159] ، [طبراني فى الكبير 312/17، 862] ، [أبويعلی 1734] ، [ابن حبان 795] ، [الحميدي 874] و [البغوي فى شرح السنة 1213، وغيرهم]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3472 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، قَالَ:"مَشَيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:"قُلْ يَا عُقْبَةُ"، فَقُلْتُ: أَيَّ شَيْءٍ أَقُولُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، ثُمَّ قَالَ:"يَا عُقْبَةُ: قُلْ، فَقُلْتُ: أَيَّ شَيْءٍ أَقُولُ؟ قَالَ: "قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، فَقَرَأْتُهَا حَتَّى جِئْتُ عَلَى آخِرِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:"مَا سَأَلَ سَائِلٌ، وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ! کہو، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ خاموش ہو گئے پھر کچھ دیر بعد فرمایا: اے عقبہ! کہو، میں نے پھر عرض کیا: کیا کہوں؟ فرمایا: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» ، چنانچہ میں نے پوری سورت آخر تک پڑھی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی مانگنے والے نے اس کے مثل نہیں مانگا، اور نہ کسی پناہ چاہنے والے نے اس کے مثل پناہ چاہی۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3472]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3483] »
محمد بن عجلان کی وجہ سے اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 5456] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 2564]
وضاحت
(تشریح احادیث 3470 سے 3472)
یعنی اللہ تعالیٰ سے مانگنے میں اور پناہ طلب کرنے میں سورۃ الفلق بہت عمدہ ہے اور اس جیسی اور کوئی سورت نہیں ہے۔
الحكم: إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 3473 سنن دارمی
يَعْلَى ، إِسْمَاعِيل هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ أَرَ أَوْ لَمْ يُرَ مِثْلَهُنَّ، يَعْنِي: الْمُعَوِّذَتَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے اوپر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جن کے مثل کوئی دیکھنے میں نہیں آئیں یعنی معوذتین « ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ » و « ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ » [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3473]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3484] »
اس حدیث کی سند اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 814] ، [نسائي 953، 5456] ، [ترمذي 2902، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 3472)
مسلم شریف میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم دیکھتے نہیں آج کی رات ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان کے مثل کبھی نہیں دیکھیں، اور وہ «﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾» اور «﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ (الفلق والناس)» ہیں، اس سے ان دونوں سورتوں کی فضیلت معلوم ہوتی ہے، نیز یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ سورتیں پڑھ کر خود اپنے اوپر اور سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے اوپر دم کیا کرتے تھے۔
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی تکلیف ہوتی تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کر لیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسمِ اطہر پر پھیرتی۔
[بخاري: باب المعوذات فى فضائل القرآن] و [مسلم: كتاب السلام، باب رقية المريض بالمعوذات] ۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جادو کیا گیا تو جبریل علیہ السلام یہی سورتیں لے کر حاضر ہوئے اور فرمایا کہ ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے، اور یہ جادو فلاں کنویں میں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیج کر اسے نکلوایا (جو ایک کنگھی کے دندانوں اور بالوں کے ساتھ ایک تانت کے اندر گیاره گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سویاں پیوست کی ہوئی تھیں)، جبریل علیہ السلام کے بتانے پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دونوں سورتوں میں سے ایک ایک پڑھتے جاتے اور گرہ کھلتی جاتی اور سوئی نکلتی جاتی، خاتمے تک پہنچتے پہنچتے ساری گرہیں بھی کھل گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح صحیح ہو گئے جیسے کوئی شخص جکڑ بندی سے آزاد ہو جائے۔
[بخاري: كتاب الطب، باب السحر] ، [مسلم: كتاب السلام، باب السحر والسنن] واضح رہے دونوں سورتوں میں گیارہ آیات ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ رات سوتے وقت سورة الاخلاص اور معوذتین پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھونکتے اور پھر انہیں پورے جسم پر ملتے تھے۔
نیز نمازِ فجر اور مغرب کے بعد تین تین بار ان سورتوں کو پڑھتے تھے، اور نمازِ ظہر، عصر اور عشاء کے بعد ایک ایک بار پڑھتے تھے۔
لیکن نماز کے بعد بدن یا چہرے پر ہاتھ پھیرنا ثابت نہیں ہے۔
ان دونوں سورتوں میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سے پناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا نقصان ہو سکتا ہے۔
اتنی معمولی کاوش اور فائدہ کتنا عظیم، لیکن مسلمانوں پر یہ آیات پڑھنا کتنا بھاری ہوتا ہے؟ اگر ان سورتوں کا سنّت کے مطابق مسلمان ورد رکھیں تو بہت کی بلاؤں اور شیطان کے شر سے محفوظ رہیں۔
الحكم: إسناده صحيح