بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورہ البقرہ کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قرآن کے فضائل سورہ البقرہ کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 3407 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، فِطْرٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَا مِنْ بَيْتٍ يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضَرِيطٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے اس سے شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3407]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فطر متأخر السماع من أبي إسحاق السبيعي، [مكتبه الشامله نمبر: 3418] »
یہ اثر موقوف ہے اور سند ضعیف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [طبراني فى الكبير 138/9، 8643] ، [الأوسط 2269] ، [الصغير 53/1] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 2379] ، [الحاكم 2063] و [ابن الضريس 175] ۔ مزید دیکھئے: [الحاكم 258/2، 3060، وقال: صحيح الاسناد دو لم يخرجاه و وافقه الذهبي]
وضاحت
(تشریح حدیث 3406)
یعنی شیطان ڈر کر بھاگتا ہے اور ہوا نکل جاتی ہے، انسان بھی ڈر جائے تو پیشاب یا پائخانہ خطا ہو جاتا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف فطر متأخر السماع من أبي إسحاق السبيعي
حدیث نمبر: 3408 سنن دارمی
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عَبْدَةُ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَتْنَا عَبْدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "سُورَةُ الْبَقَرَةِ تَعْلِيمُهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكُهَا حَسْرَةٌ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ، وَهِيَ فُسْطَاطُ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد بن معدان نے کہا: سورہ البقرہ کی تعلیم باعث خیر و برکت ہے، اور اس کو ترک کرنا باعثِ حسرت و ندامت ہے، جادوگر اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے ہیں، یہ قرآن کا خیمہ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3408]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3419] »
یہ اثر خالد پر موقوف ہے۔ عبدۃ بنت خالد کا ترجمہ کہیں نہیں ملا، اور ابوالمغيرۃ: عبدالقدوس بن الحجاج ہیں، لیکن اسی معنی کی حدیث ابوامامہ سے موصولاً مروی ہے۔ دیکھئے: [مسلم 804] ۔ آگے (3423) پر بھی آ رہی ہے۔
الحكم: لم يحكم عليه المحقق
حدیث نمبر: 3409 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا، وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا، وَإِنَّ لُبَابَ الْقُرْآنِ الْمُفَصَّلُ""قَالَ أَبُو مُحَمَّد: اللُّبَابُ: الْخَالِصُ.
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عاصم بن أبي النجود، [مكتبه الشامله نمبر: 3420] »
اس اثر کی سند حسن لیکن موقوف ہے۔ دیکھئے: [طبراني 138/9، 8644] ، [البيهقي 2376] ، [الحاكم 2060]
وضاحت
(تشریح احادیث 3407 سے 3409)
سنام ہر چیز کے بڑے کو کہتے ہیں، جیسے «فلان سنام قومه» : یعنی فلاں اپنی قوم کا بڑا آدمی ہے۔
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم بن أبي النجود
حدیث نمبر: 3410 سنن دارمی
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، تُوِّجَ بِهَا تَاجًا فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن الاسود نے کہا: جس نے سورہ بقرہ پڑھی اس کو جنت میں تاج پہنایا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3410]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3421] »
اس اثر کی سند حسن اور یہ بھی موقوف ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لابن الضريس 165] و [الدر المنثور 21/1]
وضاحت
(تشریح حدیث 3409)
یعنی سورۃ البقرہ کی معانی اور مفاہیم کے ساتھ تعلیم حاصل کی، اس کو یاد کیا تو ایسے شخص کو تاج پہنایا جائے گا۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3411 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِي بَيْتٍ، خَرَجَ مِنْهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: شیطان جب سورہ بقرہ کو سنتا ہے جو کسی گھر میں پڑھی جاتی ہے تو اس گھر سے وہ بھاگ جاتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3411]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 3422] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الحاكم 2062، و صححه الحاكم و وافقه الذهبي و الفريابي فى فضائل القرآن 39-40]
وضاحت
(تشریح حدیث 3410)
سورهٔ بقرہ قرآن پاک کی سب سے بڑی سورت ہے، بقرہ گائے کو کہتے ہیں، اس سورت میں اس کا قصہ بیان کیا گیا ہے اس لئے اس کا نام سورۃ البقرہ رکھا گیا۔
احکام و اوامر، منہیات و ممنوعاتِ اسلام کے لحاظ سے یہ بڑی جامع ہے۔
امام بخاری رحمۃ الله علیہ نے آیت الکرسی اور آخری دو آیتوں کی فضیلت بیان کر کے اس کے فضائل کی طرف اشارہ کیا ہے، مسلم شریف میں ہے: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، وہ گھر جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا ہے۔
دیکھئے: [مسلم 780] و [ترمذي 2880، وقال: هذا حديث حسن صحيح] ۔
نیز [صحيح مسلم 804] میں ہے: سورۃ البقرہ اور آل عمران قیامت کے لئے دو بادل یا دو پرندوں کی صورت میں آئیں گی جو اپنے پڑھنے والے کا دفاع کریں گی، بقرہ پڑھو کیونکہ اس کا یاد کرنا برکت اور ترک کرنا حسرت ہے، اور جادوگروں میں اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔